Home صحت انسانی جینوم کے نقشے نے 1500ملتی جلتی بیماریوں کی تشخیص ممکن بنادی

انسانی جینوم کے نقشے نے 1500ملتی جلتی بیماریوں کی تشخیص ممکن بنادی

19
0
انسانی جینوم کے نقشے نے 1500ملتی جلتی بیماریوں کی تشخیص ممکن بنادی



دماغ کی 1500 ملتی جلتی بیماریوں میں سے بچے کو کون سی بیماری ہے؟ انسانی جینوم کے نقشے نے تشخیص ممکن بنا دی۔

امریکا کے معروف طبی جریدے میں شائع تحقیقی مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا میں پانچ ہفتے کے بہت زیادہ رونے والے بچے کے جینوم کا نقشہ دیکھ کر اس میں تھیامین میٹابولزم ڈس فنکشن سنڈروم کی تشخیص کی گئی، مخصوص دوائیں دینے سے بچہ چند گھنٹے میں مکمل ٹھیک ہو گیا۔

نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے اسپتال میں ڈاکٹروں کے پاس ایک بچہ لایا گیا جو غیر معمولی طور پر روتا تھا۔ اس کی ایک آنکھ بھی نیچے کی جانب تھی۔ اس کا ایک بھائی گیارہ ماہ کی عمر میں وفات پاچکا تھا۔

بچے کے سر کی ٹوموگرافی سے معلوم ہوا کہ وہاں کئی ہائپو ڈینسِٹی موجود تھیں۔ ایسے بچوں میں اینسی فیلوپیتھی encephalopathy ہوتی ہے مگر اس دماغی بیماری کی پندرہ سو ملتی جلتی اقسام ہیں۔ غلط علاج سے بچہ موت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

اس بچے کے جینوم کا نقشہ تیار کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ اسے تھیامین میٹابولزم ڈس فنکشن سنڈروم ہے۔ اسے تھیامین اور بایوٹن دی گئی اور پھر دو گھنٹے بعد فینوباربی ٹول دی گئی۔ کچھ دیر میں بچہ مکمل ٹھیک ہو گیا۔

بچے کے جینوم کا نقشہ ساڑھے چودہ گھنٹے میں تیار کرکے اس کی مخصوص بیماری ڈھونڈ لی گئی۔





Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here