9

کچا پیاز کھانے سے کیا ہوتا ہے ؟

چا
پیاز (یا لہسن) کھانے کا حکم اور
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ کھانےکی وجہ
سوال: السلام علیکم، مفتی صاحب! کیا نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کچا پیاز کھانا ثابت ہے اور کیا کچا پیاز کھانے کی اجازت ہے؟
جواب: ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جو کچا پیاز یا لہسن کھائے، وہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے مسجد نہ آیا کرے، بلکہ گھر میں ہی بیٹھا رہا کرے۔” پھر ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک مجلس میں حضور ﷺ کے سامنے ایک تھال پیش کیا گیا، جس میں کچھ سبزیاں ترکاریاں تھیں، (جس میں ظاہر ہے کہ کچا پیاز اور لہسن بھی تھا) اس تھال سے حضور ﷺ کو کچھ بو (Smell) سی محسوس ہونے لگی، تو صحابہؓ سے پوچھا کہ اس میں کیا ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ اس میں ترکاریاں ہیں، یہ سن کر حضور ﷺ نے وہ پورا تھال اپنے ایک صحابیؓ کی طرف بھجوادیا، وہ صحابی یہ منظر دیکھ رہے تھے، اس لیے انہوں نے بھی کھانے سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ہاتھ کھینچ لئے، اس وقت حضور ﷺ نے فرمایا: “تم کھالو، کیونکہ مجھے تو اس مخلوق سے (یعنی فرشتوں سے) مناجات (یعنی سرگوشی کے انداز میں بات چیت) کرنی ہوتی ہے، جس سے تمہیں نہیں کرنی ہوتی۔”
(بخاری، حدیث نمبر: 7359)
اس پوری حدیث مبارکہ سے آپ کے دونوں سوالوں کا جواب واضح ہوجاتاہے کہ کچا پیاز کھانا منع نہیں ہے، شرعاً کچا پیاز کھانا جائز اور حلال ہے، تاہم چونکہ کچا پیاز کھانے سے منہ سے کچھ بدبو آنے لگتی ہے، جس سے دوسروں کو تکلیف ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لیے اگر مسجد یا کسی مجمع میں جاناہو، تو اس سے پہلے منہ کو اچھی طرح صاف کرلینا چاہیے، پھر مسجد یا مجمع میں جانا چاہیے، تاکہ بدبو کی وجہ سےکسی کو تکلیف نہ ہو، کیونکہ مسلمان کو تکلیف دینا حرام ہے۔
دوسرا اسی حدیث سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ حضور ﷺ نے کچا پیاز اور کچا لہسن تناول نہیں فرمایا، لیکن ساتھ میں اس کی وجہ بھی ذکر فرمادی، اور دوسروں کو اس کے کھانے کی اجازت بھی مرحمت فرمادی، تاکہ كسی کو ان کے جائز ہونے میں کوئی تأمُّل یا شبہ باقی نہ رہے، اور حضور ﷺ کے نہ کھانے کی وجہ سے کوئی ان کو حرام نہ سمجھنے لگے۔
دلائل:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صحيح البخاري: (رقم الحديث: 7359، ط: دارطوق النجاة)
عن ‌جابر بن عبدالله قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم :من أكل ‌ثوما أو ‌بصلا فليعتزلنا، أو ليعتزل مسجدنا، وليقعد في بيته. وإنه أتي ببدر، قال ابن وهب: يعني طبقا، فيه خضرات من بقول، فوجد لها ريحا، فسأل عنها فأخبر بما فيها من البقول، فقال: قربوها. فقربوها إلى بعض أصحابه كان معه، فلما رآه كره أكلها قال: كل فإني أناجي من لا تناجي.
عمدةالقاري شرح صحيح البخاري:(148/6،ط:دارإحياءالتراث العربي)
ومنه: ما استدل به بعضهم على أن أكل الثوم ونحوه كان حراما على النبي صلى الله عليه وسلم، وليس ذلك بصحيح، لأن قوله صلى الله عليه وسلم في حديث أبي أيوب المذكور: (وليس بمحرم)، يدل بعمومه على عدم التحريم مطلقا.
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
دارالافتاء الاخلاص، کراچی
ماخذ: دارالافتاء الاخلاص کراچی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں