17

نامحرم سے ادھار لینے کا حکم

واضح رہے کہ اسلام میں نامحرم سے جس طرح دیگر معاملات مثلا بیع ، شراء وغیرہ جائز ہے اسی طرح ادھار لینا بھی جائز ہے ۔اگر عورت قرضہ دینے کے بعد معاف کردے تو کرسکتی ہے ،یہ اس کاحق ہے ،تاہم اسے کسی فتنہ میں مبتلاء ہونے کا ذریعہ نہ بنایا جائے ۔

الفقه الاسلامي و ادلته ميں هے:

“والأحوال التي يجوز النظر فيها للمرأة لحاجة استثنائية هي عند الفقهاء:‌‌ الخطبة، و‌‌المعالجة، و‌‌المعاملة كبيع وشراء، والشهادة أو القضاء، والتعليم، ونحو ذلك والنظر بقدر الحاجة، فلا يجوز أن يجاوز ما يحتاج إليه؛ لأن ما حل لضرورة يقدر بقدرها …….وفي المعاملة من بيع وشراء يباح النظر للوجه فقط، للمطالبة بالثمن أو تسليم المبيع مثلا.”

(الباب السابع ۔ الحظر و الاباحۃ ، المبحث الرابع ۔ الوطء و النظر و اللمس و اللہو و التصویر و الوسم و الوشم و احکام الشعر و النتف و التفلیج و السلام جلد ۴ ص : ۲۶۵۳ ، ۲۶۵۴ ط : دار الفکر ۔ سوریۃ ۔ دمشق)

فقط و اللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں