13

موسم کے بارے میں بڑی پیشینگوئی

اس وقت سمندری طوفان 04B مغربی بنگال سے ٹکرانے کے جھاڑکھنڈ پر ڈپریشن کی صورت میں موجود تھا جو اس وقت تیزی راجستھان کی جانب بڑھ رہا ہے جو مزید شدت اختیار کرکے صوبہ سندھ میں داخل ہوگا۔ اسکی حتمی سمت وسطی اور بالائی کی جانب ہوگی۔ یہ کم دباؤ سیلابی بارشوں کا ایک اور سلسلہ لائے گا۔ اس کم دباؤ کی شدت پیچھلے کم دباؤ کے برابر ہی رہے گی۔ آج شام یا رات تک سندھ جنوبی مشرق حصوں میں گرج چمک والے بادل تشکیل پانا شروع ہوجائیں گے شروعات میں یہ اسپیل سندھ جنوبی ، مشرقی اور وسطی اضلاع کو متاثر کرے گا۔

◾ بلوچستان:-
آئیندہ 7-8 روز کے دوران بلوچستان کے مشرقی ، مشرقی اور وسطی حصوں میں کہیں کہیں پر گرج چمک کے ساتھ تیز سے موسلادھار بارش کا امکان ہے جبکہ شمال مغربی حصوں میں کہیں کہیں پر تیز برسات کا امکان ہے۔ جبکہ بلوچستان کے سلیمان اور کیرتھر کے پہاڑی سلسلوں پر شدید قسم کے گرج چمک اور موسلادھار بادل تشکیل پانے کا امکان ہے جن سے پہاڑی علاقوں سے ایک بار پھر خطرناک سیلابی ریلا آنے کے خدشات ہیں جن میں ضلع خضدار ، لسبیلہ ش جعفر آباد ، شیرانی اور ڈیرہ بگٹی کے منسلک حصوں سے ۔ جن علاقوں میں قوی امکانات ہیں وہ یہ ہیں ژوب ، لورالائی ، سبی ، بارکھان ، بولان ، موسی خیل ، ڈیرہ بگٹی ، کوئٹہ کوہلو ، قلعہ سیف اللہ ، زیارت ، نصیر آباد ، جعفرآباد ، ڈیرہ بگٹی ، قلات ، مستونگ ، جھل مگسی ، سبی ، پشین ، شیرانی ، لسبیلہ ، قلعہ عبداللہ ، خضدار ، گوادر ، سومیانی ، کیچ ، اوران ،چاغی ، نوکنڈی اور دالبندین شامل ہیں۔ یہ مون سون کا پہلا ایسا کم دباؤ ہوگا جو بلوچستان کے شمال مغربی گوشے کو مکمل طور پر متاثر کرے گا۔۔ جبکہ شمال مشرقی ، شمالی ، جنوبی اور وسطی اضلاع میں 100-150 ملی میٹر سے زائد بارش بھی ریکارڈ جو سیلابی صورتحال کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔

◾خیبرپختونخواہ:-
خیبرپختونخواہ کے جنوبی و وسطی حصوں میں کہیں کہیں پر گرج چمک کے ساتھ تیز برسات ، درمیانی بارش اور آندھی کا امکان ہے۔ اسکے علاؤہ خیبرپختونخواہ کے شمالی علاقوں میں چند ایک مقامات پر درمیانی بارش کا امکان ہے۔ خیبرپختونخواہ کی سلیمان پہاڑی سلسلہ منسلک پٹی پر شدید اور گھنے بارش برسانے والے بادل تشکیل پاسکتے ہیں جس سے پہاڑی علاقوں سے ایک بار پھر سیلابی ریلا آنے کے خدشات ہیں بلخصوص لکی مروت ، کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان جن علاقوں میں قوی امکانات ہیں وہ یہ پشاور ، ٹانک ، کڑک ، ہری پور ، بونیر ، کوہستان ، مالاکنڈ ، اورکزائی ، ہنگو ، کوہاٹ ، بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، مردان ، لکی مروت ، سوات ، مالاکنڈ ، مینگورہ ، چترال ، ایبٹ آباد ، مانسہرہ ، کلام ، شمالی و جنوبی وزیرستان ، کرم ،خیبر ، سوات ، محمد ایجنسی ، باجوڑ اور پشاور شامل ہیں۔

◾ کشمیر اور گلگلت:-
کشمیر اور گلگلت میں بھی چند ایک مقامات پر تیز برسات کا امکان ہے جن علاقوں میں قوی امکانات ہیں وہ یہ ہیں گلگلت ، اسکردو ، چلاس ،کوٹلی ، میرپور ، مظفرآباد اور وادی نیلم شامل ہیں۔

◾پنجاب:-
اصل سلسلہ کا زور ملک کے جنوبی حصوں کے جانب زیادہ مرطوب رہے گا۔ شمالی وسطی پنجاب میں چند ایک مقامات تیز برسات کا امکان ہے۔ جبکہ جنوبی حصوں میں بیشتر مقامات پر تیز سے موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔ پنجاب کے مغربی پٹی سلیمان پہاڑی سلسلہ پر شدید قسم گرج چمک اور گھنے بادل تشکیل پاسکتے ہیں بلخصوص ضلع لیہ ، بکھر راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے منسلک حصوں سے جس سے ایک بار پھر خطرناک سیلابی ریلا پہاڑی علاقوں بہہ سکتا ہے۔ جنوبی اضلاع میں 80-100 ملی میٹر سے بھی زائد بارشیں ریکارڈ ہوسکتی ہے۔ جس سے ندی نالوں میں طغیانی اور کچھ علاقوں کا زیر آب آنے کے خدشات ہیں۔ جن علاقوں میں قوی امکانات ہیں وہ یہ ڈیرہ غازی خان ، راجن پور ، جام پور ، علی پور ، مظفرگڑھ ، ملتان ، کوٹ ادو ، خانیوال ، جھنگ ، سرگودھا ، فیصلا آباد ، گجرات ، لاہور ، گجرانوالہ ، اسلام آباد ، روالپنڈی ، ناروال ، سیالکوٹ ، بہاولنگر ، کوٹ ادو ، ساہیوال ، لودھراں ، اوکاڑہ ، قصور ، شیخوپورہ ، چنیوٹ ، خوشاب ، بکھر ، میاں والی ، منڈی بہاوالدین ، سیالکوٹ ، قصور ، گجرانوالہ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، ننکانہ صاحب ، حافظ آباد ، اٹک ، لیہ ، مظفرگڑھ ،چکوال ، راجن پور ، جہلم ، منڈی بہاوالدین ، رحیم یار خان ، خان پور ، صادق آباد ، پاکپتن ، ساہیوال ، رحیم یار خان ، صادق آباد ، خان پور اور بہاولپور شامل ہیں ۔

◾ سندھ :-
سندھ کو یھی یہ سلسلہ اپنی پوری شدت سے متاثر کرنے کے امکانات ہیں۔ سندھ کے جنوب مشرقی ، مشرقی ، وسطی اور جنوبی حصوں بنا گرج چمک کے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ جس سے بعض مقامات پر 100-150 ملی میٹر سے بھی زائد بارش ریکارڈ ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ وسطی اور بالائی اور مغربی سندھ میں بھی کہیں کہیں پھر گرج چمک کے تیز سے درمیانی بارشوں کا امکان ہے۔ جبکہ سندھ کی کیرتھر پہاڑی سے منسلک پٹی پر شدید قسم کے گرج والے بادل تشکیل پانے کا امکان ہے۔ جن سے ایک بار پھر پہاڑی علاقوں سے سیلابی ریلا آنے کے امکانات ہیں۔ بلخصوص ضلع جام شورو ، دادو ، قمبر ، کندھکوٹ اور جیک آباد سے منسلک پٹی پر۔ جو سیلابی صورتحال کا باعث بن سکتے ہیں۔ جن علاقوں میں قوی امکانات ہیں وہ یہ ہیں تھرپارکر ، ٹھٹہ ، بدین ، سجاول ، حیدرآباد ، ٹنڈو محمد خان ، ٹنڈوالہ یار ، حیدرآباد ، کراچی عمرکوٹ ، میرپور خاص ، جامشورو ، سہون ، سیکرند ، سانگھڑ ، مٹیاری ، شہید بےنظیراباد آباد ، نوشہرو فیروز پور ، گمبٹ ، رانی پور ، محراب پور لاڑکانہ ، دادو ، سکھر ، خیرپور ، جیک آباد ، شھداد پور ، شکار پور ، قمبر ، کشمور ، ، مورو ، نواب شاہ ، کند کوٹ ، کنڈیارو ، پنوعاقل اور روہڑی شامل ہیں۔

شہر کراچی میں کل سے لے کر جمعرات تک طاقتور گرج چمک کے ساتھ درمیانی سے تھوڑی تیز بارش کا امکان ہے البتہ زیادہ شدید بارشوں کا امکان نہیں ہے۔

سیلابی انتباہ ⚠️:-

انتظامیہ ضلع سجاول ، ٹھٹہ اور کراچی میں فوری اقدامات کریں اور ہائی الرٹ رہے۔ ان اضلاع میں زیادہ سیلابی بارشوں کے امکانات تو نہیں لیکن وسطی اور بالائی سندھ کے حصوں میں کافی زیادہ بارشوں سے دریائے سندھ کے ڈیلٹا پر سمندری سطح بلند ہورہی ہے اور اس اسپیل کے بعد دریائے سندھ کا پانی بحیرہ عرب ہضم نہیں کرے گا بلکہ واپس زمین کے جانب پیھکے گا جس سے ضلع سجاول اور ضلع ٹھٹہ کی ہزاروں ایکڑ کے زمین زیرآب آسکتی ہے۔ مینگروف اور زرعی زمین نمکین اور میٹھے پانی کے ملاپ سے تباہی کا شکار ہوسکتی ہے۔۔

جبکہ ضلع کراچی کی بات کریں تو کیرتھر پہاڑی سلسلہ اور کراچی کے انتہائی شمالی اور شمال مغربی حصہ جو نوریا آباد اور گڈاپ وغیرہ سے لگتا وہاں سے سیلابی ریلے ملیر ندی اور دریائے حب سے آسکتا ہو۔ چونکہ سمندری سطح ویسے ہی زیادہ پانی جانے کی وجہ سے بلند ہوئی پڑی لہذا پانی واپس سے زمین کی طرف آئے جس دریائے حب اور ملیر ندی کے اطراف کے علاقوں کی آبادی کو شدید خطرات۔ اور سارے نالے جو جاکر بحیرہ عرب میں گرتے ہیں تقریباً سارے ہی جام ہوسکتے ہیں جس سے شہر کچھ گھنٹوں پانی زیادہ جمع ہوسکتا ہے۔۔ اس وقت سندھ اور بلوچستان کے نکاسی کا نظام درہم برہم ہوا پڑا ہے۔

اگر ڈیم اور مصنوعاتی جھیلوں کی صورت میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کیا جاتا اور روکا جاتا تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی لیکن حکومت کی نااہلی اور لمبے دورانیے کی منصوبہ بندی نہ کرنے کی وجہ سے اس وقت پورے سندھ ، پنجاب اور بلوچستان کی عوام کو اسکے نتائج برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔

لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور انتظامیہ ہائی الرٹ رہے پیشنگوئی بہت چھوٹے دورانیہ میں داخل ہوچکی ہے لہذا تبدیلی امکانات نہیں ہیں۔

🔘 اختتامیہ:-
یہ اسپیل بالائی سندھ اور جنوبی پنجاب کے لئے آخری طاقتور اسپیل ہوگا اسکے بعد کوئی خاطر خواہ کم دباؤ آنے کے امکانات نہیں۔ البتہ مون سون ستمبر ماہ میں بھی جاری رہے گا جو زیادہ تر سندھ اور بلوچستان کی جنوبی پٹی کو متاثر کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں