12

مسجد کے بابے

ہمارے ہاں مسجدوں کے پابند نمازی حضرات خصوصاً تھانیدار ٹائپ کے بابے بچوں کے ساتھ انتہائی کرخت اور تضحیک سے پیش آتے ہیں۔۔۔ بچوں کے مسجد میں داخل ہوتے ہی چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں۔۔۔ کوئی بچہ شور شرابہ کھیل کود کر لے تو انہیں چپ کرانے اور ڈانٹ ڈپٹ سے زیادہ شور اور چیخنا چلانا ان بابوں کا ہوتا ہے۔۔۔ نماز میں کسی بچے سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی تو بھری مسجد میں بچوں کی بے عزتی کرنا اور ڈانٹنا عمومی رویہ بن چکا ہے۔۔۔
نماز کے لئے بچوں کا بڑوں کے برابر صف میں کھڑے ہونے سے نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔۔ بچوں کو پچھلی صفوں میں دھکیلنا یا سائیڈوں پر کرنے سے نماز کا زیادہ ثواب نہیں ہوگا البتہ ایذائے مسلم کی وجہ سے ثواب کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔۔۔ یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ اگر بچہ صف میں برابر کھڑا ہو تو اس کی عزت نفس کو مجروح کر کے پچھلی صف میں دھکیلو یا اسے سائڈ پر کرو۔۔۔ سات سال سے اوپر کے بچے شرعی طوربڑوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہوکر ایک ہی صف میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔۔۔

خدا را۔۔۔!!!
اپنی نسلوں کو خود سے متنفر نہ کریں ان کی غلطیوں پر درگزر کریں بچوں کو پیار محبت اور شفقت سے سمجھائیں۔۔۔ بچے شریعت کے مکلف نہیں ہوتے اگر وہ نماز نہ بھی پڑیں تو کوئی گناہ و عذاب ان کے سر نہیں ہے۔۔۔ مائیں بچوں کو ترغیب دے کر شوق دلا کر مسجد بھیجتی ہیں اور آگے سے مسجد کے ٹھیکیدار اور جنت کے دروغے حضرات انہیں مسجد سے بھگا دیتے ہیں۔۔۔ ایسا مت کریں معصوم اور گناہوں سے پاک شفاف فرشتہ صفت بچوں پر خصوصی شفقت و رحم والا معاملہ فرمائیں۔۔۔ اگر وہ کوئی غلطی کر بھی لیں تو انہیں حکمت بصیرت کے ساتھ سمجھائیں۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں