12

قسطوں پر گاڑی خریدنا

واضح رہے کہ قسطوں پر گاڑی یا کوئی اور چیز اس صورت میں خریدنے کی شرعاً اجازت ہے جب خریداری کے وقت عاقدین اس چیز کی قیمت مقرر کرلیں اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے کسی قسم کا اضافہ وصول نہ کیا جائے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوروم والا خرید و فروخت سے پہلے یہ بتادے کہ یہ گاڑی نقد میں پانچ لاکھ کی ہےاور قسطوں میں سات لاکھ کی ہے، آپ کو اختیار ہے کہ آپ جس طرح چاہیں خرید لیں ،اس کے بعد خریدار ایک صورت متعین کرکے ایجاب و قبول کرلے اور اگر قسطوں میں معاملہ کرنے کی صورت میں قسطوں کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ بھی لازم نہ کیا جائے تو یہ شرعا درست ہوگا ۔

شرح المجلة لرستم باز میں ہے:

“البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح، يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط… لأن جهالته تفضي إلى النزاع فيفسد البيع به.”

(المادة: ٢٤٦،٢٤٥، الكتاب الأول في البيوع، الباب الثالث في بيان المسائل المتعلقة بالثمن: ١٠٠/١، ط: فاروقيه)

فقط واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں