18

زراعت میں ناکامی کی اہم وجوہات:

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
زراعت کی ناکامی کی ویسے تو بہت ساری وجوہات ہیں۔
مگر ہم گورنمنٹ کو دوسری طرف رکھ کر کسانوں سے انجانے یا نہ انجانے میں ہونے والی وجوہات پر بات کرتے ہیں۔
سب سے پہلے نمبر پر
زراعت کو کاروبار (بزنس) نہ سمجھنا۔
ہمارے پاکستان میں جو لوگ زراعت کے پیشے سے منسلک ہیں وہ صرف اس وجہ سے ہیں۔ کہ اُن کے آباؤ اجداد کاشتکاری کرتے تھے۔
اس وجہ سے ہم لوگ زراعت کو صرف ایک پیشے کی حیثیت سے دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔
اگر ہم ایک چھوٹا سا اندازا لگائیں۔
کہ ایک چھوٹے سے چھوٹے زمیندار کے پاس جتنی زمین ہے اُسکی قیمت جو جو زرعی آلات اور مال مویشی ہیں ان سب کی قیمت لگائیں۔
تو کئی کاروباری لوگوں کے ٹوٹل سرماۓ سے زیادہ ہی قیمت بنے گئی۔
تو پھر آخر کیوں ہم لوگ زراعت کو کاروبار نہیں سمجھتے؟؟؟؟؟
حالانکہ زراعت سے اچھا شائد ہی کوئی کاروبار ہو۔
اگر اس کو کاروبار کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔
(کیونکہ ہم جو جو یا جیسے جیسے سوچتے ہیں ویسے ویسے چیزیں رونما ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔)
دوسرے نمبر پر
زراعت میں لمبی پلاننگز (لونگ ٹرم پالیسیز) کا نہ اپنانا۔
لمبی پلاننگز سے مراد یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو جلد از جلد اپنانا۔
اور اگر کسی کسان بھائی کے پاس کوئی بھی زرعی آلات نہیں ہیں تو کوشش کر کے ہر ایک یا دوسری فصل پر وہ زرعی آلات بنوانا۔
ہر آنے والے سال میں اپنے زیر کاشت رقبے کو بڑھانے کی کوشش کرنا
زمین ٹھیکے وغیرہ پر لینا۔
اپنی زندگی کا کوئی نہ کوئی مثبت مقصد بنانا۔
(جس سے ہم کو، ہمارے ملک کو اور ہماری آنے والی نسلوں کو فائدہ ہو)
اور پھر اُس مقصد کو پورا کرنے کی کوشش کرنا۔
کامیاب لوگوں اور کامیاب ملکوں میں ایک بات مشترکہ ہے کہ وہ لمبی پلاننگز کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور کامیاب رہتے بھی ہیں۔
تیسرے نمبر پر
اپنے بچوں
(نوجوان نسل) کو زراعت میں شامل نہ کرنا یا نہ ہونے دینا۔
جو
(1) سوچ،
(2) شوق،
(3) جذبہ اور جنون،
(4) فیصلہ سازی،
(5) کام کرنے کی صلاحیت،
(6) چوکنا پن،
(7) ہوشیار بازی،
(8) چیزوں کو سمجھنے اور سیکھنے کا فن
(9) فکر اور دور اندیشی
(10) قوت ارادی
(11) رسک لینا
وغیرہ وغیرہ
ایک نوجوان میں ہوتا ہے۔
وہ ایک بزرگ میں نہیں ہو سکتا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ تجربہ انسان کا سب سے بڑا استاد ہوتا ہے۔
لیکن نئی ایجادات ہمیشہ نوجوان نسل ہی کیا کرتی ہے۔
اور اگر نوجوان نسل اپنے بزرگوں کے تجربات سے بھی رہنمائی لیں تو پھر تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہوں گئی۔
معذرت کے ساتھ
ہماری زراعت کو ایک اور المیہ بھی درپیش ہے۔
وہ یہ کہ
ہمارے دیہاتوں میں اور جو زمیندار حضرات شہروں میں رہائش پذیر ہیں وہ اپنے سب سے زیادہ لائق یا ہوشیار بچے کو تعلیم دلواتے ہیں۔
اور جو بچہ یا بچے تعلیم میں سستی کا شکار ہوتے ہیں۔
اُن کو زراعت کی طرف لگا دیتے ہیں۔
یا پھر
سب بچوں کو تعلیم دلواتے ہیں اور جو ذہین یا لائق ہوتے ہیں۔
وہ ملازمت اختیار کر لیتے ہیں۔
اور جن بچوں کو ملازمت نہیں مل پاتی کسی وجہ سے وہ پھر زراعت کا رُخ کرتے ہیں۔
بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ
ذہین اور لائق نوجوانوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہماری زراعت کو حد درجہ نقصان ہو رہا ہے۔
چوتھے نمبر پر
کسان بھائیوں میں اتحاد و اتفاق کا نا ہونا ہے۔
کہاوت مشہور ہے کہ
اتفاق میں برکت ہے۔
اگر سب کسان بھائیوں میں اتحاد اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو تو بہت سارے مسائل پر شروع سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔
جس کے بے پناہ فوائد ہیں۔
زراعت پیشہ بھی، عبادت بھی اور کاروبار بھی
اصلاحات کا خیر مقدم کیا جاتا ہے۔
Revolution with Agriculture

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں