15

داڑھی کی توہین کرنا

داڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور شعائرِ اسلام میں سے ہے، اور مردوں کے لیے ایک مشت داڑھی رکھنا واجب ہے، اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا دراصل سنت اور شعائرِ اسلام کامذاق اڑانا ہے جو کفر تک پہنچادینے والا عمل ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ دوست کے الفاظ کہ’’ آپ کی داڑھی ہے تو کیا اچھا کام کیا؟‘‘ تو اگر اس شخص کی مراد یہ ہے کہ داڑھی رکھ کر تم نے کوئی اچھا کام نہیں کیا ، تو ایسی صورت میں اس شخص کے الفاظ انتہائی بُرے ہیں ، اس پر اس کہنے والے کو سخت توبہ و استغفار لازم ہے ،اور اگر اس شخص کا مقصد داڑھی کی سنت کا مذاق اڑانا تھا، تو تجدید ایمان لازم ہے، اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔ اور اگر سنت کا مذاق اڑانا مقصود نہیں تھا، بلکہ محض اس شخص پرغصے میں اس کے متعلق یہ الفاظ کہے تو کہنے والا کافر نہیں ہوا، البتہ سخت گناہ گار ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

“وفي الفتح: من هزل بلفظ كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد.ثم قال: ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمداً، بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافاً بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق.”

(كتاب الجهاد، باب المرتد، ج:4، صفحہ: 222، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں