9

خواتین کا کسی عالم دین کی مجلس میں شرکت کا حکم

صورت مسئولہ میں خواتین کا شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے باپردہ ہو کر کسی مستند عالم دین کے درس قرآن اور وعظ ونصیحت کی مجلس میں شرکت کرنا جائز ہے۔ خواتین کا شرعی پردہ کی رعایت کے ساتھ وعظ ونصیحت کی مجلس میں شرکت کرنا اور جمع ہونا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور سے ثابت ہے۔ اور بزرگوں کا بھی یہی طریقہ چلا آرہا ہے، پس اگر خواتین باپردہ ہوکر وعظ و نصیحت سننے کے لیے کسی گھر میں جمع ہوتی ہوں تو یہ جائز ہے بشرطیہ کے ان کا جمع ہونا ان کے لیے یا واعظ کے لیے فتنہ کا باعث نہ ہو۔

“حدثنا آدم، قال: حدثنا شعبة، قال: حدثني ابن الأصبهاني، قال: سمعت أبا صالح ذكوان، يحدث عن أبي سعيد الخدري قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم: غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك، فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن: «ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها، إلا كان لها حجابا من النار» فقالت امرأة: واثنتين؟ فقال: «واثنتين»”.

(باب هل يجعل للنساء يوم على حدة في العلم، ج: 1، صفحہ: 32، رقم الحدیث: 101، ط: دار طوق النجاة (مصورة عن السلطانية بإضافة ترقيم ترقيم محمد فؤاد عبد الباقي)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

“کوئی شخص اپنے محلہ کی غیر محرم عورتوں کو پردہ میں رکھ کر حیض و نفاس کا مسئلہ، نماز روزہ پاکی ناپاکی کے بارے میں وعظ و نصیحت سنائے اور بتلائے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب: جائز ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بکثرت ثابت ہے، لیکن اگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو احتیاط کرنا چاہیے”۔

(ج: 3، صفحہ: 377، ط: ادارہ الفارق کراچی)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں