8

اعضاء کی پیوند کاری – آنکھوں کا عطیہ کرنا

انسان خواہ مسلمان ہو یا کافر، زندہ ہو یا مردہ اس کے اعضاء کسی دوسرے کو لگانا چاہے اس کی اجازت اور وصیت سے ہو یا اس کے بغیر ہو بلاشبہ ناجائز ہے، بلکہ اس قسم کی وصیت ہی سرے سے جائز نہیں، کیونکہ انسان ایک قابل احترام ہستی ہے، اس کے اعضاء کی قطع وبُرید میں اس کی اہانت اور تخلیقِ انسانی کے منشاء کی مخالفت ہے، نیز اگر اس چیز کی اجازت دے دی جائے تو اعضائے انسانی کے حصول میں قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوجائے گا، اور بہت سے مُردے اپنے بہت سے اعضاء سے محروم ہوکر اس دنیا سے جایا کریں گے اور بہت سے غریب اپنے بچوں کی مصیبت دُور کرنے کیلئے اپنی یہ چیزیں بھی داؤ پر لگادیں گے، اس لئے یہ طریقہ شرعاً اور عقلاً دونوں طرح ناجائز ہے، لہٰذا اس قسم کے عمل سے احتراز لازم ہے۔ ٭

تاہم اگر ضرورتِ شدیدہ ہو اور کوئی دیندار اور ماہر مُعالج گردہ وغیرہ کی تبدیلی ہی کی صورت میں مریض کی جان بچانے کی تجوید دے دے تو ایسی مجبوری کے عالم میں چونکہ بعض متاخرین علماء سے اس تبدیلی کی گنجائش منقول ہے اس لئے اگر کوئی مریض مجبوراً ان علماء کی رائے کے مطابق عمل کرلے تو امید ہے کہ اس کا یہ عمل انشاء اللہ موجب ملامت نہ بنے گا۔
البتہ آج کل اس حالت میں بھی اگر انسان کی بجائے جمادات و حیوانات پر تحقیق کرکے اس سے اِس انسانی ضرورت کو پورا کرنے کا انتظام کرلیا جائے تو نہایت مناسب ہے کیونکہ اس میں شرعاً یا عقلاً بھی کوئی قباحت نہیں اور جدید سرجری رپورٹ کے مطابق بھی یہ طریقہ زیادہ مُفید ہے، اور اس سلسلہ میں مزید وضاحت کیلئے رسالہ ’’انسانی اعضاء کی پیوندکاری‘‘ مصنفہ مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ کا مطالعہ ضروری ہے۔ ٭

کسی دوسرے شخص کو اپنا خون دینے کے بارے میں قدرے تفصیل ہے وہ یہ کہ عام حالات میں تو خون دینا جائز نہیں، اس لئے کہ یہ ایک تو اعضاء انسانی کے احترام کے خلاف ہے اور دوسرے اس لئے کہ خون نجاست غلیظہ ہے اور نجس اشیاء کا استعمال جائز نہیں لہٰذا عام حالات میں اس سے احتراز ضروری ہے۔
البتہ علاج اور دواء کے طور پر حالت اضطرار میں اس کا استعمال بلاشبہ جائز ا ور درست ہے اور حالت اضطراری سے مراد یہ ہے کہ مریض کی جان کا خطرہ شدید ہو اور کوئی دوسری دواء اس کی جان بچانے کیلئے مؤثر یا موجود نہ ہو اور خون دینے سے اس کی جان بچ جانے کا ظن بھی غالب ہو، چنانچہ ان شرائط کے ساتھ خون دینا شرعاً جائز اور درست ہے اور اس صورت میں خون دینا انشاء اللہ موجب اجر و ثواب ہوگا، بشرطیکہ خون دینے والا اس کی قیمت وصول نہ کرے جو کہ اس کیلئے لینا جائز نہیں اور ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے بلڈ بینک کی بھی بقدر ضرورت گنجائش دی جاسکتی ہے۔ ٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں